تہران / نیویارک (خصوصی رپورٹ):
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے بھاری مالی نقصان کا ملبہ اپنے ہمسایہ عرب ممالک پر ڈالتے ہوئے ان سے 270 ارب ڈالرز (تقریباً 75 ہزار ارب پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ طلب کر لیے ہیں۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان ممالک نے اپنی زمین اور فضائی حدود دشمن کو فراہم کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
نقصانات کا ابتدائی تخمینہ اور حکومتی مؤقف
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق حملوں سے ملک کو براہِ راست اور بالواسطہ پہنچنے والا نقصان 270 ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور نقصانات کی تہیں ابھی مزید کھولی جا رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں باقاعدہ احتجاج
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس خط میں واضح طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کا نام لیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کو پہنچنے والے مادی اور اخلاقی نقصان کا ازالہ کریں۔
ایران کے اہم الزامات:
عالمی ردِعمل اور امن کی اپیل
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔