حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکی فوج میں 30 سال سے زائد عمر اہلکاروں کے لیے "مردانگی" کا ٹیسٹ لازمی، پینٹاگون سے ہدایات جاری Home / بین الاقوامی /

امریکی فوج میں 30 سال سے زائد عمر اہلکاروں کے لیے "مردانگی" کا ٹیسٹ لازمی، پینٹاگون سے ہدایات جاری

ایڈیٹر - 03/09/2026
امریکی فوج میں 30 سال سے زائد عمر اہلکاروں کے لیے

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی اہلکاروں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی بروقت تشخیص کے لیے نئی پالیسی نافذ کردی ہے، جس کے تحت 30 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد فوجیوں کے لیے ہارمون کی جانچ لازمی ہوگی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری نئی ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فوجی اہلکاروں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی سے متعلق مسائل، مسلسل تھکن اور توانائی میں کمی کی بروقت نشاندہی کرکے علاج فراہم کرنا اور فوج کی مجموعی کارکردگی و جنگی تیاری بہتر بنانا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام مرد فوجیوں کے خون کے نمونے لے کر جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح جانچی جائے گی، جبکہ 30 سال سے کم عمر اہلکاروں کی جانچ صرف ان کی درخواست یا ڈاکٹر کی جانب سے کمی کی علامات محسوس کیے جانے پر کی جائے گی۔

خواتین فوجی اہلکاروں کے لیے لازمی ٹیسٹ کا دائرہ مختلف رکھا گیا ہے۔ ان کا معمول کے طور پر ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ نہیں ہوگا، تاہم ڈاکٹروں کو مسلسل تھکن، توانائی میں کمی اور ماہواری میں بے قاعدگی سمیت دیگر متعلقہ علامات کی بنیاد پر ضروری طبی جانچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پینٹاگون کی ہدایات میں خواتین کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال سے متعلق بھی رہنما اصول شامل کیے گئے ہیں۔ مخصوص طبی حالات میں، خصوصاً سنِ یاس سے گزرنے والی ایسی خواتین میں جنہیں غیر معمولی طور پر جنسی خواہش میں کمی کا سامنا ہو، ڈاکٹر منظور شدہ استعمال سے ہٹ کر بھی ٹیسٹوسٹیرون تجویز کرسکتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلے ہی فوجی اہلکاروں میں ٹیسٹوسٹیرون کی جانچ لازمی بنانے کی حمایت کرچکے ہیں، تاہم پالیسی کے اعلان کے بعد طبی ماہرین نے اس بڑے پیمانے پر جانچ کے سائنسی جواز پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہر فوجی اہلکار کی وسیع پیمانے پر جانچ سے ایسے افراد بھی علاج کے دائرے میں آسکتے ہیں جنہیں درحقیقت ٹیسٹوسٹیرون کی ضرورت نہ ہو، جبکہ غیر ضروری ہارمون تھراپی بعض حالات میں نقصان دہ بھی ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فی الوقت اس حوالے سے شواہد محدود ہیں کہ فوج کے تمام اہلکاروں کی لازمی ٹیسٹوسٹیرون جانچ سے امریکی فوج کی جنگی تیاری یا مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

دوسری جانب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ٹیسٹوسٹیرون کے طبی استعمال اور اس سے متعلق دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے لیے ستمبر کے وسط میں طبی ماہرین کا اجلاس بلانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے، جس میں اس ہارمون کے استعمال سے متعلق مزید بحث متوقع ہے۔