حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): روس نے مبینہ طور پر ایران کو جدید سپرسونک کروز میزائل کی تیاری کے لیے حساس ٹیکنالوجی اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں تہران کی امریکی بحری اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیق کے مطابق روس اور ایران کے درمیان یہ خفیہ تعاون سی 430 ایل نامی منصوبے کے تحت 2023 میں شروع ہوا تھا اور خطے میں حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران بھی اس پر کام جاری رہا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد ایران کو ایسے ریم جیٹ انجن اور پروپلشن نظام کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا ہے جو کروز میزائل کو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کے قابل بناسکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق روسی میزائل ماہرین نے ایران کو ریم جیٹ ٹیکنالوجی کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اس نظام کی مدد سے میزائل زیادہ رفتار برقرار رکھنے کے ساتھ نسبتاً کم بلندی پر پرواز کرسکتا ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق ایسی صلاحیت اینٹی شپ میزائلوں اور زمین پر موجود اہداف کے خلاف استعمال ہونے والے کروز میزائلوں میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
کم بلندی پر تیز رفتار پرواز کرنے والے میزائل دفاعی نظام کے لیے زیادہ مشکل ہدف بن سکتے ہیں کیونکہ ریڈار کو انہیں شناخت کرنے اور دفاعی کارروائی کے لیے نسبتاً کم وقت ملتا ہے۔
سابق امریکی خفیہ ادارے کے فوجی تجزیہ کار جم لیمسن کے مطابق اگر ایران اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کے لیے ایک نیا تزویراتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
میزائل امور کے ماہر اور تنازعات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے تحقیقاتی ادارے سے وابستہ فابیان ہنز نے روسی تعاون کو انتہائی حساس فوجی ٹیکنالوجی کی منتقلی قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ایران طویل عرصے سے اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ روس میں ایسے حساس منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روسوبورون ایکسپورٹ نے منصوبے کو مربوط کیا، جبکہ روسی میزائل ساز ادارے این پی او ماشینوستروئینیا نے تکنیکی معاونت فراہم کی۔
مذکورہ روسی ادارہ جدید کروز میزائل اور راکٹ نظاموں کی تیاری میں مہارت رکھتا ہے اور اس پر امریکا پہلے ہی پابندیاں عائد کرچکا ہے۔
رپورٹ میں سفری ریکارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2023 میں معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل روسی دفاعی حکام اور میزائل ماہرین نے ایران کے متعدد دورے کیے۔
بعد ازاں ایرانی وزارت دفاع کے ساتھ منصوبے سے متعلق معاہدہ طے پایا اور روسی ماہرین نے ایران میں موجود تکنیکی صلاحیتوں اور تجربات کا جائزہ لینا شروع کیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایران نے ریم جیٹ پروپلشن نظام سے متعلق ایک تجرباتی پرواز بھی کی۔
تجربے کے بعد حاصل ہونے والے تکنیکی اعداد و شمار اور دیگر معلومات روسی ماہرین نے جانچیں۔ روسی انجینئرز نے ایرانی فریق سے میزائل کی کارکردگی اور تجربے کے نتائج سے متعلق تفصیلی معلومات بھی حاصل کیں۔
رپورٹ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ روسی تعاون صرف تیار شدہ ہتھیار فراہم کرنے تک محدود نہیں تھا بلکہ ایران کو جدید میزائل ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار کرنے کے لیے تکنیکی علم منتقل کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ریم جیٹ ٹیکنالوجی اور اس کے تجربات میں پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اب تک ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا کہ روسی معاونت سے تیار ہونے والا سپرسونک کروز میزائل ایرانی فوج میں باقاعدہ طور پر شامل ہوچکا ہے۔
اس لیے فی الحال اسے ایک زیر تکمیل دفاعی منصوبہ قرار دیا جارہا ہے، نہ کہ ایسا مکمل عملی ہتھیار جو ایرانی فوج پہلے ہی جنگی کارروائیوں میں استعمال کر رہی ہو۔
سی 430 ایل منصوبے کا انکشاف روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یوکرین جنگ کے دوران ایران کی جانب سے روس کو ڈرونز کی فراہمی بھی دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کی مثال رہی ہے۔ روس نے مبینہ طور پر ایرانی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہاں ان ڈرونز کی تیاری کا نظام بھی قائم کیا۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی روس اور ایران کے درمیان ڈرون تعاون سے متعلق دعوے کیے ہیں۔
حالیہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے دفاعی روابط ڈرونز اور روایتی فوجی سازوسامان سے آگے بڑھ کر جدید میزائل ٹیکنالوجی تک پہنچ رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سی 430 ایل منصوبے پر اس وقت بھی کام جاری رہا جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی شدت اختیار کرچکی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا ہوا ہے۔
ایران نے مختلف مواقع پر امریکی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی ایرانی فوجی تنصیبات اور میزائل سے متعلق اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
سی 430 ایل منصوبے سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران کہا کہ ماسکو مشکل حالات میں ایران کی مدد کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے ضروری سامان فراہم کررہا ہے۔
اگرچہ پیوٹن نے اپنے بیان میں کسی مخصوص میزائل یا دفاعی منصوبے کا نام نہیں لیا، تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب روس کی جانب سے ایران کو حساس فوجی ٹیکنالوجی کی مبینہ فراہمی کی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔
ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے روس کے ساتھ چین کا کردار بھی زیر بحث ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے چین اور روس دونوں سے جدید فوجی و تکنیکی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین سے حاصل ہونے والی اعلیٰ معیار کی سیٹلائٹ معلومات نے بھی ایرانی فریق کو امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی اور معلومات اکٹھی کرنے میں مدد دی ہے۔
یوں روسی میزائل ٹیکنالوجی، چینی خلائی و نگرانی کی صلاحیت اور ایران کی مقامی دفاعی صنعت کا امتزاج مستقبل میں خطے کی عسکری صورتحال اور طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔