کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 22.53 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملکی ذخائر میں 1.9 کروڑ ڈالر (19 ملین ڈالر) کا قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی واقع ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار تفصیلات کے مطابق، 28 اگست 2026 کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر 1.9 کروڑ ڈالر کے اضافے کے بعد 17.1178 ارب ڈالر (تقریباً 17.12 ارب ڈالر) کی سطح پر آ گئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے ان ذخائر کے علاوہ ملک کے تجارتی (کمرشل) بینکوں کے پاس بھی 5.41 ارب ڈالر کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں، جو ملکی تجارت اور درآمدی ضروریات کے لیے ایک تسلی بخش حجم ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل 21 اگست 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھی مرکزی بینک کے ذخائر میں 1.7 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ بڑھ کر 17.10 ارب ڈالر ہوئے تھے۔ ذخائر میں یہ مسلسل اضافہ ملکی کرنسی مارکیٹ میں روپے کو استحکام دینے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعتماد کو بحال رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔