حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر کی خفیہ معلومات لیک، 50 اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ، ناکامی پر ٹرمپ بھی برہم، تحقیقات جاری Home / بین الاقوامی /

ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر کی خفیہ معلومات لیک، 50 اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ، ناکامی پر ٹرمپ بھی برہم، تحقیقات جاری

ایڈیٹر - 05/09/2026
ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر کی خفیہ معلومات لیک، 50 اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ،  ناکامی پر ٹرمپ بھی برہم، تحقیقات جاری

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج کے حساس اسلحہ ذخائر سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچنے کے معاملے نے پینٹاگون میں تشویش پیدا کردی، جس کے بعد امریکی حکام نے مبینہ لیک کی تحقیقات کے لیے تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف سے منسلک اہلکاروں سے گزشتہ ماہ اگست کے دوران پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے پولی گراف ٹیسٹ بھی لیے گئے۔ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ امریکی جنگی ذخائر سے متعلق انتہائی حساس معلومات میڈیا تک کس ذریعے سے پہنچیں۔

رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کے لیے موجود انٹرسیپٹرز سمیت اہم جنگی سازوسامان کے ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات کے اخراج پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

پولی گراف ٹیسٹ سے بھی لیک کا ذمہ دار سامنے نہ آسکا

ذرائع کے مطابق جن اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے گئے، ان میں سے کسی کے بارے میں بھی ایسا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر مبینہ طور پر خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کرنے والے شخص کی واضح شناخت ہوسکے۔

امریکی محکمہ دفاع نے تحقیقات میں شامل مخصوص اہلکاروں یا پوچھ گچھ کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اور حساس معلومات کا غیر مجاز افشا قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

ٹرمپ بھی برہم، تحقیقات جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حساس معلومات کے میڈیا تک پہنچنے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے بھی مبینہ لیک کے ذمہ دار افراد کا سراغ لگانے اور خفیہ معلومات کے اخراج کے محرکات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

حکام کی توجہ اب اس بات کا تعین کرنے پر ہے کہ جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق معلومات کس سطح سے لیک ہوئیں اور انہیں میڈیا تک پہنچانے میں کون سے ذرائع استعمال کیے گئے۔