حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا قدم؟ بحری راستے میں پابندیوں کا نیا منصوبہ سامنے آگیا Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا قدم؟ بحری راستے میں پابندیوں کا نیا منصوبہ سامنے آگیا

ایڈیٹر - 07/09/2026
آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا قدم؟ بحری راستے میں پابندیوں کا نیا منصوبہ سامنے آگیا

حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئے محدود بحری زون کے قیام پر غور شروع کردیا ہے، جس کے ممکنہ نفاذ سے خطے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے اور امریکا سمیت مختلف ممالک کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یونیورسٹی آف سان فرانسسکو کے ماہر اسٹیفن زونز کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مجوزہ بحری زون کا تعلق ممکنہ طور پر عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے راستوں سے متعلق جاری مذاکرات سے ہے۔

اسٹیفن زونز کے مطابق اگر ایران اور عمان کے درمیان ایسا قابل عمل سمجھوتا طے پا جاتا ہے جسے امریکا بھی قبول کرلے تو تہران ممکنہ طور پر محدود بحری زون کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے سکتا ہے۔

تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی یا واشنگٹن نے مجوزہ انتظام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو ایران کے پاس بحری حدود میں پابندیاں عائد کرنے کا راستہ اختیار کرنے کا آپشن موجود ہوگا۔ ماہر کے مطابق ایسی صورت میں امریکا کے لیے عمان کے ساتھ کسی معاہدے کی مخالفت کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

امریکی بحری موجودگی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

اسٹیفن زونز نے خبردار کیا کہ محدود بحری زون کے نفاذ سے پہلے سے پیچیدہ صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج کو وسیع سمندری علاقے کی نگرانی اور پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اضافی وسائل استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے اثرات صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تجارتی جہاز رانی اور بحری انشورنس کے شعبے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خطرات میں اضافے کے باعث شپنگ اور انشورنس کمپنیاں آبنائے ہرمز کے راستے کو استعمال کرنے سے مزید گریز کرسکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

اسٹیفن زونز کے مطابق خلیجی ممالک بھی صورتحال کو معمول پر رکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت اور تجارت محفوظ اور بلاتعطل بحری آمدورفت سے براہ راست منسلک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان کسی معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے تو اسے مثبت پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔

ماہر کے مطابق ممکنہ انتظام کے تحت خلیجی ممالک ٹرانزٹ یا گزرنے کی فیس ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کرسکتے ہیں، تاہم امریکا اصولی طور پر اس قسم کی فیس کی مخالفت کرسکتا ہے۔

زونز نے کہا کہ عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان اس معاملے پر مشاورت کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر عمان کے مؤقف کی تشکیل میں بھی علاقائی ممالک کا کردار رہا ہے۔

ایران کا منصوبہ، سفارتی دباؤ کا ذریعہ بھی ہوسکتا ہے

ماہر کے مطابق ایران کا محدود بحری زون قائم کرنے کا معاملہ محض سمندری نگرانی یا جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے تک نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات اور واشنگٹن پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے تناظر میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئے پابندی والے زون کا اعلان بھی آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔

محسن رضائی کے مطابق مجوزہ زون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہوکر خلیج تک پھیلایا جائے گا، جبکہ اس علاقے میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

ایران کے اس ممکنہ اقدام کی حتمی نوعیت اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے، تاہم اگر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل تک پہنچ سکتے ہیں۔