حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا، سرپلس اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ، تبادلوں اور نئی بھرتیوں کے باوجود صوبے میں 15,684 اساتذہ کی مجموعی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی 2026 کی رپورٹ میں سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی دستیابی، تعیناتی، تبادلوں، نئی بھرتیوں اور طلبہ و اساتذہ کے تناسب کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے کے لڑکوں کے سکولوں میں 13,508 اساتذہ کی کمی ہے، جبکہ 2,870 اساتذہ ضرورت سے زائد یعنی سرپلس قرار دیے گئے ہیں۔ سرپلس اساتذہ کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد بھی لڑکوں کے سکولوں میں 10,727 اساتذہ کی خالص کمی برقرار ہے۔
اسی طرح لڑکیوں کے سکولوں میں 7,911 اساتذہ کی کمی کے مقابلے میں 3,284 اساتذہ سرپلس ہیں، جس کے بعد بچیوں کے سکولوں میں اساتذہ کی خالص کمی 4,957 بنتی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کے لیے طلبہ کی تعداد کو بنیادی پیمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 59 تک طلبہ والے سکول میں 2 اساتذہ، 60 سے 99 طلبہ کے لیے 3، 100 طلبہ پر 4 جبکہ 140 طلبہ کی تعداد پر 5 اساتذہ تعینات کرنے کا معیار مقرر ہے۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کی تعداد میں ہر مزید 40 کے اضافے پر ایک اضافی استاد فراہم کیا جائے گا۔
اساتذہ کی قلت پر قابو پانے کے لیے مارچ 2026 سے صوبے میں تبادلوں اور بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر 9,198 اساتذہ کے تبادلے کیے گئے، جن میں 6,459 مرد اور 2,739 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔
دوسری جانب پرائمری سکولوں میں پیرنٹ ٹیچر کونسل کے ذریعے 5,683 اساتذہ بھرتی کیے گئے۔ ان میں 2,088 مرد اور 3,595 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔
رپورٹ میں طلبہ کے داخلوں کا صنفی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق لڑکیوں کے سکولوں میں داخلوں کی شرح میں لڑکوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا۔
دستاویز کے مطابق بچیوں کے داخلوں میں 26.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لڑکوں کے داخلوں میں 16.2 فیصد اضافہ ہوا۔ داخلوں میں اس اضافے کے باعث خصوصاً لڑکیوں کے سکولوں میں مزید اساتذہ کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت صوبے کے 45.1 فیصد لڑکوں کے سکول اور 41.6 فیصد لڑکیوں کے سکول اساتذہ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی نے اساتذہ اور طلبہ کی تعداد میں توازن قائم کرنے کے لیے موجودہ تبادلوں اور بھرتیوں کے عمل کو مزید جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ سرکاری سکولوں میں تدریسی عمل متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔