حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور تجارتی و توانائی کے بحران کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری تھی۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے خطے پر غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان پیدا ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے ہی پیدا کردہ بحران کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ذمہ داری بھی ایران کے طرزِ عمل کو قرار دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے خود جنگ کا آغاز کیا اور اب اس کے معاشی و دیگر اثرات کا بوجھ پوری دنیا پر ڈالنے کی توقع کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی افراتفری کا ذمہ دار صرف ایران کو قرار دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
ایرانی ترجمان کے بیان میں واضح کیا گیا کہ تہران آبنائے ہرمز سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کو امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ سمجھتا ہے۔