حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا میں غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا، جس کے تحت صوبے میں 500 سے زائد غیرقانونی قرار دی گئی رہائشی سکیموں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں نے غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کی تفصیلات صوبائی و وفاقی محکموں کو ارسال کردی ہیں، جبکہ ان کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے وفاقی اداروں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔
حکام نے غیرقانونی قرار دی گئی ہاؤسنگ سکیموں کو بجلی اور گیس کے نئے کنکشن فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ضروری معلومات فراہم کردی گئی ہیں تاکہ غیرمنظور شدہ رہائشی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں 85 ہاؤسنگ سکیموں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے، جبکہ مردان اور چارسدہ میں 41، 41 سکیمیں غیرقانونی قرار پائی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہری پور میں 12، نوشہرہ میں 17 اور ایبٹ آباد میں 7 ہاؤسنگ سکیمیں بھی غیرقانونی قرار دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دیگر اضلاع کی تفصیلات کو شامل کرنے کے بعد صوبے بھر میں غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کی تعداد 500 سے تجاوز کرچکی ہے۔
حکام نے غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کو مربوط بنانے کے لیے وفاقی محصولات کے ادارے سمیت دیگر متعلقہ وفاقی محکموں سے بھی رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ غیرقانونی رہائشی منصوبوں کے خلاف قانونی، انتظامی اور مالی سطح پر مؤثر کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔