خیبر پختونخوا کے حیات آباد نرسنگ کالج میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی کے معاملے پر محکمہ صحت نے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی
محکمہ صحت کے مطابق کمیٹی کی سربراہی اسپیشل سیکرٹری صحت کریں گے، جبکہ ڈی جی ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور ڈی جی ہیلتھ سروسز کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ کمیٹی کو ایک روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب پوسٹ گریجویٹ کالج حیات آباد کی پرنسپل اخنور سنگھ نے ویڈیو پیغام میں طلبہ کے احتجاج کے حوالے سے کالج انتظامیہ کا مؤقف پیش کیا ہے
پرنسپل کے مطابق 2 طلبہ کے خلاف سنگین نوعیت کی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن پر انکوائری کے لیے انہیں کمیٹی کے سامنے طلب کیا گیا تھا، تاہم دونوں طلبہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بجائے دیگر طلبہ کو بھی اپنے ساتھ لے آئے اور انتظامیہ کے دفتر میں آکر دباؤ ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ انکوائری کمیٹی ختم کی جائے اور ان کے خلاف شکایات بھی واپس لی جائیں، تاہم انتظامیہ نے انہیں ہدایت کی کہ اگر وہ اپنے خلاف الزامات کو غلط سمجھتے ہیں تو کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنا مؤقف پیش کریں، جہاں انہیں صفائی کا مکمل موقع دیا جائے گا۔
پرنسپل کے مطابق بعد ازاں طلبہ نے کالج اور ہاسٹل کے گیٹس کو تالے لگا دیے، فیکلٹی کو گھیرے میں رکھا اور مبینہ طور پر گالم گلوچ بھی کی، جبکہ بعض دیگر طلبہ کو بھی احتجاج میں شامل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے صرف 2 طلبہ کو انکوائری کے لیے طلب کیا تھا اور دیگر طلبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔