حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
فلسطینی حقوق کی خلاف ورزیاں، عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیل اور مغربی اتحادی آمنے سامنے Home / بین الاقوامی /

فلسطینی حقوق کی خلاف ورزیاں، عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیل اور مغربی اتحادی آمنے سامنے

ایڈیٹر - 09/09/2026
فلسطینی حقوق کی خلاف ورزیاں، عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیل اور مغربی اتحادی آمنے سامنے

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے معاملے پر اسرائیل اور اس کے روایتی مغربی اتحادیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے آبادکاروں سے منسلک اسرائیلی مصنوعات پر تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد تل ابیب نے سخت جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سار نے برطانوی اقدام کو اسرائیل کے داخلی اور انتخابی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ اسرائیلی حکومت نے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصلیٹ بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جبکہ سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جیرمی کوربن سمیت بعض برطانوی شہریوں اور حکام کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے مشترکہ بیان میں دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور موجودہ تباہ کن صورتحال پر عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہ سکتی، اس لیے خطے میں سلامتی اور دو ریاستی حل کے امکانات برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی قرار دیے جانے پر اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سار نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اس بیان کو اشتعال انگیز اور جھوٹ پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا۔

دوسری جانب ڈنمارک، ناروے، اسپین اور سویڈن سمیت مزید 9 ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی الگ بیان میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر امن کے امکانات کو شدید متاثر کر رہی ہے، اسی لیے کینیڈا دو ریاستی حل کے مؤقف پر قائم ہے۔

تاہم امریکا نے اپنے یورپی اور دیگر مغربی اتحادیوں کے برعکس ان تجارتی پابندیوں سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات مغربی کنارے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کرے گا۔

یوں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کا معاملہ اسرائیل اور اس کے دیرینہ اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اختلافات کا ایک نیا مرکز بن گیا ہے۔