حسبان میڈیا (ویب دیسک): حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ کردیا، جس کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل مزید مہنگے ہوگئے ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نئے نرخوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 58 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اضافے کا اطلاق فوری طور پر کردیا گیا ہے۔
حکومت نے اس سے ایک روز قبل بھی پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس اضافے کے بعد پٹرول 358 روپے 77 پیسے اور ڈیزل 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا تھا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے شہریوں کے سفری اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بار بار ردوبدل کیا جارہا ہے۔
حکومت نے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا طریقہ کار بھی اختیار کر رکھا ہے، تاہم ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں برقرار رکھنے کا نظام نافذ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی سے اب تک پٹرول کی قیمت میں 14 مرتبہ کمی جبکہ 21 مرتبہ اضافہ کیا جاچکا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ میں 10 مرتبہ کمی اور 21 مرتبہ اضافہ ہوا۔
گزشتہ چند ہفتوں میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار تبدیلی کی گئی۔ 28 اگست کو پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں معمولی کمی کے بعد پٹرول کی قیمت مختلف تاریخوں میں دوبارہ بڑھائی جاتی رہی، جس کے نتیجے میں صارفین کو مسلسل اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔