حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): یمن میں سرگرم حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو ایک بار پھر میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز بھیجے گئے۔
ترجمان کے مطابق اتحادی فورسز نے حملوں سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد ان حملوں کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی عرب پر یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک مرتبہ پھر شدت دیکھی جارہی ہے۔
حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دونوں جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری تازہ لڑائی کے دوران 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم مختلف فریقوں کی جانب سے جاری کیے گئے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔