زلزلے کو 11 سال بیت گئے مگر دیر بالا کا سرکاری اسکول تعمیر نہ ہو سکا، معصوم طلبہ سخت موسم میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
دیر بالا (نمائندہ خصوصی، حسبان میڈیا): خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں ڈوگ درہ تلاوکس کا گورنمنٹ پرائمری اسکول محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت بن گیا۔ سال 2015 کے شدید زلزلے سے متاثر ہونے والی اسکول کی عمارت 2026 میں بھی تعمیر و مرمت کی منتظر ہے، جس کے باعث معصوم بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسکول کی عمارت مکمل طور پر خستہ حال اور ناقابلِ استعمال ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے اسکول کے 170 سے زائد طلبہ شدید موسمی سختیوں کے باوجود چھت کے بغیر، کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر سبق پڑھنے پر مجبور ہیں۔ دیر بالا کے اس پہاڑی علاقے میں شدید سردی اور بارش کے موسم میں بچوں کو پڑھانے میں اساتذہ اور طلبہ دونوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہلِ علاقہ اور بچوں کے والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کسی بھی سرکاری محکمے نے اسکول کی بحالی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے منتخب سیاسی نمائندوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران بڑے بڑے وعدے کرنے والے رہنما اب منظرِ عام سے بالکل غائب ہیں۔ مقامی رہنماؤں اور والدین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے اسکول کی عمارت کی فوری اور ہنگامی بنیادوں پر تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جائے۔