دیر کالونی سانحے کے بعد محکمہ تعلیم متحرک: خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی بلڈنگ سیفٹی اسکریننگ کا حکم، تفصیلی مراسلہ جاری
پشاور (خصوصی رپورٹر، حسبان میڈیا): پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے الماناک واقعے کے بعد، محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبرپختونخوا نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور ہنگامی ایکشن پلان کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کی تکنیکی ٹیموں کی مدد سے صوبے کے تمام اضلاع میں سرکاری اسکولوں کا تفصیلی معائنہ شروع کر دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق، یہ تکنیکی ٹیمیں متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کے تعاون سے اسکولوں کی عمارتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں گی۔ معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی موجودہ حالت کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ نقص، کمزوری یا حفاظتی خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ مراسلے میں سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر معائنے کے دوران کسی عمارت میں ایسا نقص سامنے آئے جس سے طلبہ یا اساتذہ کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو، تو سروے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر متعلقہ ضلعی حکام کو فوری آگاہ کیا جائے اور عمارت تک رسائی محدود کرنے یا اسے عارضی طور پر معطل کرنے جیسے ضروری حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں۔
حکام کے مطابق، اس ٹیکنیکل معائنے کے نتائج کی بنیاد پر اسکولوں کی عمارتوں کو تین مختلف زمروں (Categories) میں تقسیم کیا جائے گا، تاکہ ان کی موجودہ حالت اور خطرے کی نوعیت کے مطابق آئندہ کے اصلاحی اقدامات کا تعین ہو سکے۔ معائنے کے عمل کے بعد ہر اسکول کے لیے 'بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ' یا این او سی (NOC) حاصل کرنا اور اسے جمع کرانا لازمی ہوگا۔ محکمہ تعلیم نے تمام اضلاع کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ معائنے کا یہ عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں اور تمام اضلاع کی جامع رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک ہر صورت محکمہ تعلیم کو فراہم کی جائیں تاکہ کسی بھی دوسرے ممکنہ حادثے سے بچاؤ کے لیے بروقت اور موثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔