خیبرپختونخوا کی سابق حکومت کے فیصلے کابل اور قندھار سے آتے تھے، معدنیات نکالیں گے اور بیچیں گے بھی: گورنر فیصل کریم کنڈی
پشاور (حسبان میڈیا): گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی معاشی خوشحالی اور امن و امان کے حوالے سے انتہائی اہم اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کے معدنی وسائل کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی اور معدنی وسائل سے استفادے کے لیے ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ "معدنیات نکالنے کے لیے ہی ہیں، ہم انہیں زمین سے نکالیں گے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت بھی کریں گے"۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے غیر ملکی کمپنیاں، پاکستانی کمپنیاں اور خیبرپختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں کے تحت سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی سابقہ حکومت اور سیکورٹی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے اور اس دور کے بعض مفرور عناصر اب سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جنہوں نے اب پھر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے لوگوں کو لا کر یہاں آباد کرنے کے نتائج صوبے بھگت رہا ہے، تاہم امن کے قیام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کا جواب دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ مولانا کے گورنر راج سے متعلق موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ شکوہ تو بجا ہے کہ وہ اپنے ہی علاقے میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتے اور وہاں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ صوبائی حکومت امن کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کر رہی۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مولانا کہتے تھے کہ ان کے بغیر کوئی حکومت بنتی ہے نہ چلتی، مگر ان کے بغیر بھی خیبرپختونخوا کی حکومت بنی ہے اور چلتی رہے گی"۔ گورنر نے جے یو آئی سربراہ کو دعوت دی کہ وہ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔