حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
فرانس کے کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ، اب تک 1000 پولیس اہلکار زخمی اور 2400 مظاہرین گرفتار Home / بین الاقوامی /

فرانس کے کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ، اب تک 1000 پولیس اہلکار زخمی اور 2400 مظاہرین گرفتار

ایڈیٹر - 21/10/2026
فرانس کے کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ، اب تک 1000 پولیس اہلکار زخمی اور 2400 مظاہرین گرفتار

پیرس: فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف جاری عوامی احتجاج پُرتشدد رخ اختیار کر گیا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے دارالحکومت پیرس سمیت کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، فرانس میں گزشتہ کئی روز سے حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ فرانسیسی سیکیورٹی فورسز اور مشتعل مظاہرین کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک ریکارڈ 1000 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 2400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

حالات کو قابو میں لانے اور امن و امان کی بحالی کے لیے فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکام کی جانب سے پیرس، لیون، نیس اور ملک کے شمالی حصوں میں شہریوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ان شہروں میں رات کے اوقات میں بغیر کسی ناگزیر وجہ کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ حساس مقامات پر اضافی فورسز اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کر دی گئی ہیں۔

معاشی ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، فرانس میں اس وقت حالیہ تاریخ کا شدید ترین عوامی غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت معاشی بحران، بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے گراف اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی فرانس کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس بحران کے اثرات پورے یورپ کی معیشت اور سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔