پشاور (سٹاف رپورٹر): خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے اور قومی خزانے کے درست استعمال کے لیے سرکاری فنڈز کے اجراء اور ان کے انتظام و انصرام کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے نئے سخت ضوابط (ایس او پیز) جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت اب مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر 'سیپ' (SAP) سسٹم میں کسی بھی قسم کے فنڈز کا اندراج نہیں کیا جا سکے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا طے شدہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ دستاویزات کے مطابق، سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) اور وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت فنڈز کی فراہمی کے لیے مقررہ فارمیٹس پر عمل درآمد کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت ترقیاتی اور جاری (کرنٹ) بجٹ کے فنڈز کے اجراء اور اخراجات کی نگرانی اب روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوری نوعیت یا ہنگامی صورتحال میں جاری کیے جانے والے فنڈز کے لیے بھی سیکرٹری خزانہ یا متعلقہ مجاز افسر سے پیشگی منظوری لینا ناگزیر ہوگا۔ منظوری کے باقاعدہ طریقہ کار کو بائی پاس کرنے کے لیے 'فوری فنڈز اجراء' کی سہولت کو بطور حربہ استعمال کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔
نئی پالیسی کے مطابق تمام ترقیاتی اور جاری فنڈز کو منظوری کی اصل تاریخ پر ہی سیپ سسٹم میں اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے فنڈز کے اندراج میں تاخیر ہوتی ہے، تو متعلقہ افسر قانونی طور پر اس کی ٹھوس اور مناسب وجہ ریکارڈ پر لانے کا پابند ہوگا۔ صوبائی حکومت کے اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی میں جوابدہی کے نظام کو مضبوط کرنا اور ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہے۔