حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر جزوی طور پر پابندی عائد۔ Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر جزوی طور پر پابندی عائد۔

ایڈیٹر - 24/10/2026
خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر جزوی طور پر پابندی عائد۔

پشاور (خبر نگار خصوصی): خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر جزوی طور پر فوری پابندی عائد کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام مختلف سرکاری محکموں کے حوالے سے موصول ہونے والی متعدد عوامی اور انتظامی شکایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام نے نہ صرف نئی بھرتیوں کے عمل کو روک دیا ہے بلکہ معزول حکومت کے دورِ اقتدار میں ہونے والے حالیہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے بارے میں بھی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ شفافیت کا تعین کیا جا سکے۔

محکمہ خزانہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شکایات کی زد میں آنے والے بعض اہم ٹیسٹوں کے حوالے سے گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ مختلف اداروں میں موجود 'بھوت ملازمین' (Ghost Employees) کی نشاندہی کے بعد انہیں ملازمتوں سے فوری طور پر فارغ کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس انتظامی تطہیر کے ساتھ ساتھ مختلف محکموں کو جاری کیے جانے والے سرکاری فنڈز کی سخت جانچ پڑتال (Audit) کا سلسلہ بھی بیک وقت شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبے کے بعض اہم ترین اور کلیدی سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے باقاعدہ سفارشات تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کر دی گئی ہیں۔

دستاویزات اور ذرائع کے مطابق، شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ ادوار میں کی گئی مختلف بھرتیوں کا ریکارڈ بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئی بھرتیوں اور بالخصوص گزشتہ حکومت کے دور میں کیے گئے تقرریوں کے فیصلوں پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان تحفظات کو دور کرنے اور میرٹ کی پامالی کو روکنے کے لیے 'گورنر انسپکشن ٹیم' نے مختلف محکموں کے حوالے سے باقاعدہ اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کے دور رس نتائج متوقع ہیں۔