لاہور (این این آئی): پاکستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک سفری شناخت کے طور پر استعمال ہونے والے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (MRP) کا 22 سالہ تاریخی سفر باقاعدہ طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ وفاق کی جانب سے ملک بھر میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس 'ای پاسپورٹ' (e-Passport) کے نظام کا مکمل اجراء کر دیا گیا ہے۔ پاسپورٹ حکام کے مطابق، شہریوں کے پاس پہلے سے موجود مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس اپنی مقررہ میعاد (Expiry Date) تک مکمل کارآمد اور سفری مقاصد کے لیے قابلِ استعمال رہیں گے، تاہم ان کی میعاد پوری ہونے کے بعد اب پرانے فارمیٹ پر ان کی تجدید (Renewal) نہیں کی جا سکے گی اور شہریوں کو لازمی طور پر ای پاسپورٹ ہی جاری کیا جائے گا۔
پاکستان میں سفری دستاویزات کی جدید کاری کے اس سفر کا آغاز مارچ 2022 میں کیا گیا تھا، جب ابتدائی طور پر صرف سفارت کاروں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے ای پاسپورٹ کی سہولت متعارف کروائی گئی تھی۔ بعد ازاں، اگست 2023 میں اس دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے تمام عام پاکستانی شہریوں کو مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ یا ای پاسپورٹ حاصل کرنے کا بیک وقت اختیار فراہم کیا گیا تھا۔ اب ملک بھر کے تمام مراکز پر مکمل طور پر ای پاسپورٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پاسپورٹ کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کا آغاز قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہاتھ سے لکھے جانے والے (Manual) پاسپورٹس سے ہوا تھا۔ مینوئل سسٹم کے بعد ملک کو بین الاقوامی سفری معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ لایا گیا تھا، اور اب 22 سال بعد یہ نظام بھی الیکٹرانک چپ پر مبنی انتہائی محفوظ 'ای پاسپورٹ' ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو چکا ہے، جس سے پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی اسکریننگ اور امیگریشن کے مراحل مزید آسان ہو جائیں گے۔