لاہور (سٹاف رپورٹر): وفاقی وزیر داخلہ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے زونل آفس لاہور میں ایک اعلیٰ سطح کی کھلی کچہری لگائی، جہاں انہوں نے شہریوں اور بالخصوص سائبر کرائم کے متاثرین کے مسائل خود سنے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے موقع پر موجود افسران کو سائلین کی شکایات اور زیر التوا کیسز کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد نمٹانے کے سخت احکامات جاری کیے۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے ساتھ ہونے والے مالی اور ڈیجیٹل فراڈ کے بارے میں وفاقی وزیر کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو اور سائلین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ کے پاس سب سے زیادہ شکایات کم عمر بچیوں اور خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کے حوالے سے موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ماؤں اور بہنوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا یا کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز ہرگز کسی سے شیئر نہ کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد خواتین کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی ویڈیوز اور تصاویر بناتے ہیں اور پھر انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے انتہائی افسوس کے ساتھ بتایا کہ ایسے بلیک میلنگ کے چند سنگین معاملات میں بچیوں نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشیاں تک کر لی ہیں۔
آن لائن مالیاتی فراڈ پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے عوام الناس کو خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی شخص انٹرنیٹ پر کسی بھی بہانے سے رقم کا تقاضا کرے تو اسے ہرگز رقم منتقل نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکثر نوسرباز بیماری، مجبوری یا کسی ہنگامی مصیبت کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کو لوٹتے ہیں، لہٰذا ایسے عناصر کو ایک روپیہ بھی ٹرانسفر نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں اور گزشتہ بارہ دنوں کے دوران لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے کال سینٹرز کے ذریعے فراڈ میں ملوث 600 کے قریب افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ حکومت اگلے دو تین برسوں کے دوران سائبر کرائم کے ونگز میں نفری کو پورا کرنے اور نیٹ ورک کو مزید جدید بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے。