اسلام آباد: عالمی بینک کی تشویشناک رپورٹ جاری؛ پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد ریکارڈ، 7 کروڑ سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے گر گئی
عالمی مالیاتی ادارے 'ورلڈ بینک' (World Bank) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معاشی رپورٹ میں پاکستان میں غربت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران ملک میں مجموعی غربت کی شرح 29 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک کے تقریباً 7 کروڑ 26 لاکھ افراد خطِ غربت (Poverty Line) سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے۔ عالمی بینک کے یہ اعداد و شمار ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
رپورٹ میں آمدن کے مختلف طبقات کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے انتہائی غریب افراد کی شرح 23 فیصد رہی، جو کہ مجموعی طور پر 5 کروڑ 76 لاکھ سے زائد کی آبادی بنتی ہے۔ اسی طرح، روزانہ 4.20 ڈالر سے کم کمانے والوں کی تعداد 12 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کا 47.9 فیصد بنتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ملک کے 21 کروڑ 88 لاکھ افراد (یعنی 87.1 فیصد آبادی) کی روزانہ کی آمدن 8.30 ڈالر سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا ایک بہت بڑا حصہ بنیادی معاشی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کے مطابق، سال 2024 میں پاکستان میں کثیرالجہتی غربت (Multidimensional Poverty) کی شرح 27.1 فیصد رہی۔ رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے مابین شدید معاشی تفاوت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جس کے تحت دیہی علاقوں میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک بلند یعنی 56.4 فیصد ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 34.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ غربت میں اس ہوشربا اضافے کی بنیادی وجوہات میں ملک میں جاری مسلسل مہنگائی، معاشی سست روی اور عام آدمی کی آمدن میں ہونے والی نمایاں کمی ہے۔ خاص طور پر اشیائے خورونوش اور توانائی (بجلی و گیس) کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح کچل کر رکھ دیا ہے۔