اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ پر سی ڈی اے کا نوٹس، 15 روز میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلڈنگ بائی لاز اور تجاوزات کے خلاف ایک بڑی کارروائی سامنے آئی ہے۔ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں واقع رہائشگاہ پر باقاعدہ نوٹس ارسال کر دیا ہے۔ یہ نوٹس مذکورہ رہائشگاہ کے مکان مالک امان اللہ کے نام جاری کیا گیا ہے، جس میں گھر کے باہر اور اندر قائم کی گئی مختلف تنصیبات کو بلڈنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور تجاوزات قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے بھیجے گئے سرکاری نوٹس کے مطابق، رہائشگاہ کے باہر گرین ایریا (سبزہ زار) پر قائم کیا گیا سکیورٹی گارڈ کیبن اور بھاری جنریٹر فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید برآں، نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ کی حدود میں قائم کچن بھی سی ڈی اے کے مروجہ بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی ادارے نے مکان مالک کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اندر ان تمام تجاوزات کو خود رضاکارانہ طور پر مسمار کریں، بصورتِ دیگر مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد سی ڈی اے کا عملہ خود بھاری مشینری کے ہمراہ آپریشن کرے گا اور نقصانات کی ذمہ داری مکان مالک پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب، اس ہائی پروفائل معاملے پر وفاقی حکومت کا اہم مؤقف بھی سامنے آگیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نوٹس کسی مخصوص سیاسی جماعت یا شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں دیا گیا، بلکہ یہ پورے دارالحکومت میں بلاامتیاز جاری انسدادِ تجاوزات مہم کا ایک حصہ اور معمول کی قانونی کارروائی ہے۔ وزیر مملکت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، اور کسی کو بھی دین یا سیاست کے لبادے کو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں اور تجاوزات کے دفاع کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
3