حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
یورپ میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی بغاوت؛ فرانس، جرمنی اور اٹلی میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے Home / بین الاقوامی /

یورپ میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی بغاوت؛ فرانس، جرمنی اور اٹلی میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

ایڈیٹر - 01/11/2026
یورپ میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی بغاوت؛ فرانس، جرمنی اور اٹلی میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

یورپ میں معاشی بحران سنگین: مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر، پیرس میں جزوی کرفیو نافذ

پیرس/برلن (خصوصی رپورٹ، حسبان میڈیا):
یورپی ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور البانیہ سمیت متعدد ممالک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں، جلاؤ گھیراؤ اور دکانیں لوٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے متعدد علاقوں میں نائٹ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، فرانس میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں اب تک 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد شرکت کر چکے ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کچھ کم ہے، تاہم امن و امان کی نازک صورتحال کے پیش نظر فرانسیسی حکومت نے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ پیرس میں ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج نے اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر لیا جب نقاب پوش مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ مظاہرین کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پیرس کے متاثرہ علاقوں میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب، جرمنی میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں میونخ اور برلن سمیت مختلف شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ ان مظاہروں میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ برلن میں پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ ہمبورگ اور فرینکفرٹ میں بھی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ فرینکفرٹ میں بعض شرپسند عناصر نے دکانوں کے شیشے توڑ کر لوٹ مار بھی کی۔

معاشی بدحالی کی یہ لہر اٹلی تک پھیل چکی ہے، جہاں طلبہ اور مزدور تنظیموں نے تنخواہوں میں اضافے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ریلیاں نکالیں۔ ادھر البانیہ میں سیاسی بحران سنگین ہو گیا ہے، جہاں سڑکوں پر نکلے بپھرے ہوئے مظاہرین نے براہِ راست وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یورپی رہنماؤں نے فوری طور پر معاشی ریلیف پیکجز کا اعلان نہ کیا تو یہ احتجاجی لہر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔