حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
صوبائی محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف۔ Home / پاکستان /

صوبائی محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف۔

ایڈیٹر - 02/11/2026
صوبائی محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف۔

پشاور (رپورٹ: حسبان میڈیا)
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے دورِ اقتدار میں مختلف سرکاری محکموں کے آڈٹ کے دوران 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم کی مالی بے ضابطگیوں اور مشکوک اخراجات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ حکام کی جانب سے جاری کردہ سال 25-2024 کی حالیہ رپورٹ نے صوبائی محکموں میں انتظامی اور مالیاتی نظم و نسق کی سنگین صورتحال کو عیاں کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق آڈٹ کے پہلے مرحلے میں منتخب کردہ 28 پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (PAOs) میں سے 14 اہم انتظامی محکموں کا تفصیلی آڈٹ کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری ٹھیکوں کی منظوری انتہائی مشکوک اور غیر شفاف انداز میں دی گئی۔ مزید برآں، مختلف ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں قوائد کے برعکس 90 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو براہِ راست نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے 60 کروڑ روپے سے زائد کے غیر مجاز اور غیر قانونی اخراجات بھی کیے گئے۔ آڈٹ دستاویزات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ متعدد ٹھیکیداروں کی جانب سے باقاعدہ معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی، تاہم متعلقہ محکموں کی جانب سے کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس مجرمانہ غفلت کے باعث حکومت کو 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کا خالص مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

دوسری جانب، آڈٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران آڈٹ ریکوری کی مد میں 11 کروڑ 70 لاکھ 9 ہزار روپے سرکاری خزانے میں واپس جمع کرائے جا چکے ہیں۔ تاہم، اربوں روپے کے دیگر مشکوک اخراجات اور غیر شفاف ٹھیکوں کے حوالے سے تاحال متعلقہ محکموں سے جوابات طلب کیے جا رہے ہیں۔