کوئٹہ (رپورٹ: حسبان میڈیا)
بلوچستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی سنگین صورتحال کے باعث نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ مسلح ملزمان 2 شہریوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس بزدلانہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقتولین کے لواحقین نے انصاف کی فراہمی کے لیے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، قلعہ عبداللہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے شہریوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔ واقعے کے فوراً بعد مسلح افراد نے دو دیگر اشخاص کو بھی یرغمال بنایا اور انہیں نامعلوم سمت کی طرف اغوا کر کے لے گئے۔ واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے مقتولین کے لواحقین اور مقامی قبائل نے لاشیں سڑک پر رکھ کر چمن پشین بائی پاس اور کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور علاقے میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس اور لیویز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش اور مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔