باجوڑ:
صاحبزادہ بہاؤالدین سے: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد قائم 48 رکنی ARDC کے دفاتر تاحال غیر فعال، عوام مشکلات سے دوچار۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تشکیل دی گئی 48 رکنی ترقیاتی مشاورتی کونسل (ARDC) کے مرکزی و علاقائی دفاتر تاحال قائم نہ ہو سکے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق چیئرمین سمیت تمام نامزد اراکین تاحال دفاتر سے محروم ہیں، جس کے باعث ایمرجنسی سے قبل کے منتخب نمائندوں کی معزولی کے بعد ان 12 اضلاع کے عوام شدید گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ اپنے اجتماعی و انفرادی مسائل لے کر کہاں جائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا تقاضا فوری اور ہنگامی اقدامات ہیں۔ لیکن گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، سوائے تجاوزات کے خلاف جزوی آپریشن کے جو کہیں فعال اور کہیں محض خانہ پوری تک محدود ہے۔ علاوہ ازیں نامزد 48 رکنی کونسل کے اختیارات کا دائرہ کار بھی تاحال واضح نہیں ہیں جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کے پیش نظر ARDC چیئرمین اور اراکین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مرکزی اور علاقائی سطح پر دفاتر قائم کی جائے تاکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لئے ایک مؤثر فورم میسر آ سکے۔