پشاور (خصوصی رپورٹر، حسبان میڈیا): صوبائی دارالحکومت پشاور میں اسٹریٹ کرائمز، موبائل و موٹر سائیکل چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور دیگر سنگین جرائم کے سدِباب کے لیے پشاور پولیس نے بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے نئی اور سخت گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، اگلے 15 دن اس مہم کے لیے انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق، شہر کے تمام حساس مقامات اور جرائم کے ہاٹ اسپاٹس پر پولیس نفری اور پیٹرولنگ میں فوری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حساس اوقات میں ناکہ بندیاں اور اسنیپ چیکنگ کے نظام کو مزید سخت بنانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ سی سی پی او پشاور نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اسٹریٹ کرمنلز کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا، منشیات فروشوں، سود خوروں، قمار بازوں اور اشتہاری مجرمان کے خلاف بلاامتیاز اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کے دائرہ کار کو مزید تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تمام فیلڈ افسران کو سخت تاکید کی ہے کہ ہر وقوعے پر فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر کا اندراج سو فیصد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے تمام پولیس افسران کو تفویض کردہ ٹاسک مکمل کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی ہے، جس کے بعد کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ سی سی پی او کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، فوری انصاف کی فراہمی اور عوامی مسائل کا بروقت حل پشاور پولیس کی اولین ترجیح ہے اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔