واشنگٹن: امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جہاں ابتدائی رجحانات کے مطابق اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے حکمران ریپبلکن پارٹی پر واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ انتخابی نتائج پر اپنے پہلے باقاعدہ ردعمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ "اس بار بیلٹ پیپر پر میرا نام نہیں تھا، اگر میں خود الیکشن لڑ رہا ہوتا تو ہماری پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔" صدر ٹرمپ نے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملکی مفاد میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں بعض اہم قومی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ انہوں نے خصوصاً امیگریشن (تارکین وطن) کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ تعاون کا اشارہ دیا، البتہ خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوان سے کوئی بھی احمقانہ قانون سازی یا بل بھیجا گیا تو وہ صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ویٹو کر دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کابینہ میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 435 رکنی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستیں درکار ہیں۔ اب تک کے موصولہ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار 190 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں جبکہ ریپبلکنز صرف 110 نشستوں پر برتری حاصل کر سکے ہیں۔ دوسری جانب، 100 رکنی امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت (51 نشستیں) حاصل کرنے کی دوڑ میں ڈیموکریٹس نے بازی مار لی ہے۔ حالیہ گنتی کے مطابق ڈیموکریٹس 17 نئی نشستوں پر برتری کے ساتھ مجموعی طور پر 51 کے جادوئی ہندسے تک پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد انہوں نے سینیٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے، جبکہ ریپبلکنز 8 نشستوں پر برتری کے بعد محض 39 نشستوں تک محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے بقیہ حصے میں قانون سازی کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔