کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) کراچی نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ایجنسی کے جاری بھرتی کے عمل میں جعل سازی کرنے والے ایک انتہائی اہم ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم مبینہ طور پر بھرتی کے لیے آنے والے سادہ لوح امیدواروں کو جعلی میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹس فروخت کرنے کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث تھا۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق، کارروائی رزاق آباد ٹریننگ سینٹر میں جاری بھرتی کے عمل کے دوران منگل 3 نومبر کو عمل میں لائی گئی۔ حکام کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ سینٹر کے باہر اور قریبی علاقوں میں بعض عناصر امیدواروں کو غیر قانونی طور پر جعلی طبی اسناد فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ جسمانی اور طبی آزمائش کے مراحل کو دھوکہ دہی سے پاس کر سکیں۔ این سی سی آئی اے کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع سے ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔
ابتدائی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق گرفتار ملزم معمولی جعل ساز نہیں بلکہ حکومتِ سندھ کے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا ریٹائرڈ ڈپٹی سیکرٹری ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ملزم کراچی کے علاقے عبداللہ گوٹھ میں فوٹو اسٹیٹ کی ایک دکان چلا رہا تھا، جسے اس نے اس غیر قانونی دھندے کے لیے بطور ہیڈ کوارٹر استعمال کیا۔ ملزم وہاں مختلف سرکاری ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی جعلی مہریں اور سرٹیفکیٹس تیار کر کے امیدواروں کو بھاری رقوم کے عوض فروخت کرتا تھا۔ این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس نیٹ ورک میں مزید کون سے عناصر شامل ہیں۔