عصمت اللہ حنفی
حکومت نے 27 ویں آئینی ترامیم کو سینٹ سے منظور کرلیا اپوزیشن جماعتوں نے کوششوں کے باوجود متنازعہ آئینی ترامیم کا راستہ نہ روک سکی تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے ایک ایک سنیٹر سلپ ہوگئے 27 ویں آئینی ترامیم سنیٹ میں حکومت اور اتحادیوں کو دو ووٹوں کی ضرورت تھی جس سے جمعیت علماء اسلام کے سنیٹر احمد خان اور تحریک انصاف کے سنیٹر سیف اللہ ابڑو نے ووٹ دے کر حکومت کا نمبر گیم پورا کردیا ہے 27 ویں آئینی ترامیم کے تیاری کے لئے حکومت نے سپریم کورٹ یعنی جوڈیشلی اور الیکشن کمیشن کو استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے خواتین کے مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے خواتین کے مخصوص نشستوں کو مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علماء اسلام اور دیگر کو دے کر قومی اسمبلی میں حکومت کو دو تہائی اکثریت دلوا دیا تھا حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو ڈی سیٹ کرکے 27 ویں آئینی ترامیم کے لیے راہ ہموار کردی آج 27 ویں آئینی ترامیم کے حق میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سنیٹر ایمل ولی خان نے بھی ووٹ کر خیبر پختونخوا میں اپنی باری کے امیدوں کو زندہ کردیا ہے جمعیت علماء اسلام نے ووٹ نے دینے کے فیصلے کے باوجود جمعیت علماء اسلام کے سنئیر احمد خان نے پارٹی پالیسی کے برعکس 27 ویں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دے دیا ہے یاد رہے کہ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی اور مرکزی قائدین نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء شعلہ بیان مقرر مولانا حافظ حمداللہ کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے احمد خان کے نام نیشن کرکے غیر محسوس انداز میں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کو سنیٹر بنوایا آج یہی سنیٹر احمد خان نے جمعیت علماء اسلام کے پارٹی پالیسی کے برعکس سینٹ میں اپنی راۓ کا استعمال کیا اور حکومت و اتحادیوں کے ووٹ کے کمی کو پورا کرتے ہوئے حکومتی نمبرز گیم کو پورا کیا آج سینٹ میں 27 ویں آئینی ترامیم کے شق وار ترامیم کو پاس کئے اپوزیشن جماعتوں نے لاکھ کوششوں کے باوجود 27 ویں آئینی ترامیم کا راستہ نہیں روک سکیں مسلم لیگ ن کے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ مسلم لیگ ن نے ہوا میں اڑا دیا ہے اور ووٹ کو خریدو کا فارمولہ استعمال کرکے نمبرز گیم کو پورا کیا تحریک انصاف کے سنیٹر سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علماء اسلام کے سنیٹر احمد خان نے اپنی اپنی پارٹیوں کا منہ کالا کیا اور یہ دونوں سنیٹرز حکومت کے دباؤ کو برداشت نہ کرسکا یا حکومت کو ووٹ دے کر خربوزے اور بھیڑ بکریوں کی طرح بک گئے ہارس ٹریڈنگ کے سائے میں منظور کئے گئے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی اور صوبائی قیادت کو آج ضرور شاہین جمعیت محافظ ختم نبوت مولانا حافظ حمداللہ ضرور یاد آیا ہوگا اور نظریاتی و فکری کارکن کے بجائے سرمایہ کو اہمیت دینے کا فیصلہ جماعت اور عوامی امنگوں کے برعکس ہے آج سینٹ سے ہارس ٹریڈنگ کے سائے میں منظور کئے گئے آئینی ترامیم قانونی ہونگے یا غیر قانونی تصور کئے جائیں گے ۔