نثار الحق
رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ ہے، جسے نزولِ قرآن کی نسبت سے خصوصی عظمت حاصل ہے۔ اسی مہینے میں وہ مبارک رات بھی عطا کی گئی جسے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ میں رمضان کے فضائل، اس کے روزوں اور اس میں کی جانے والی عبادات کا بارہا ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے اسے رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ کہا جاتا ہے۔
رمضان المبارک دراصل ایک جامع روحانی تربیتی نظام ہے۔ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، نفل عبادات کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا اجر کئی درجے بڑھ جاتا ہے۔ تاہم رمضان کا اصل مقصد محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ روزہ انسان کو تقویٰ، خود احتسابی اور ضبطِ نفس کا درس دیتا ہے۔ جب کوئی شخص تنہائی میں بھی اللہ کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی خواہشات پر قابو رکھتا ہے تو اس کے اندر حقیقی خدا خوفی پیدا ہوتی ہے۔
یہ مہینہ صبر، شکر اور برداشت کی عملی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔ دن بھر کی مشقت اور پیاس انسان کو عاجزی سکھاتی ہے اور افطار کے وقت اللہ کی نعمتوں پر شکر گزاری کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔ رمضان ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل ضرورتیں محدود ہیں اور خواہشات کو قابو میں رکھنا ہی کامیابی کی راہ ہے۔ اگر روزے کے باوجود زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے باز نہ آئے تو روزے کی روح متاثر ہوتی ہے، اس لیے کردار کی اصلاح رمضان کا بنیادی تقاضا ہے۔
رمضان احساس اور ہمدردی کا مہینہ بھی ہے۔ جب ہر شخص بھوک اور پیاس کی کیفیت سے گزرتا ہے تو اسے معاشرے کے نادار اور مستحق افراد کا درد سمجھ آتا ہے۔ یہی احساس زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کی صورت میں عملی شکل اختیار کرتا ہے۔ اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا اور ان کی مدد کرنا رمضان کی حقیقی روح ہے۔ اس مہینے میں پیدا ہونے والا باہمی اخوت اور تعاون کا جذبہ معاشرے کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے۔
درحقیقت رمضان المبارک ایک موقع ہے ، اپنی کوتاہیوں پر غور کرنے، اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا۔ اگر اس مہینے میں حاصل کی گئی تربیت کو ہم سال بھر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہی رمضان ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لا سکتا ہے۔