پاکستان میں فٹ ویئر کی سالانہ طلب کا حجم تقریباً 55 کروڑ جوڑوں تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ملکی سطح پر جوتوں کی پیداواری صلاحیت اس سے کہیں زیادہ، یعنی تقریباً 70 کروڑ جوڑوں تک موجود ہے۔ اس کے باوجود مقامی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ استعمال شدہ جوتوں کی درآمدات سے پورا کیا جا رہا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فروخت ہونے والے جوتوں میں سے تقریباً 30 سے 40 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے آنے والے استعمال شدہ جوتوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف مقامی صنعت کے لیے چیلنج بن رہا ہے بلکہ مارکیٹ کے توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے پاس اپنی ضروریات سے زائد جوتے بنانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن سستے استعمال شدہ جوتوں کی دستیابی صارفین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی مینوفیکچررز کو مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مقامی فٹ ویئر انڈسٹری کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات روزگار اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے مؤثر پالیسی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور درآمدی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔