میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی نیم فوجی ادارے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کونسل (آئی آر جی سی) نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ریاض میں پیش آنے والے واقعے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کارروائی دراصل اسرائیل کی جانب سے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت کی گئی۔
آئی آر جی سی نے اس حوالے سے امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پیش کیے گئے دعوے بے بنیاد ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے اقدامات اسرائیلی مفادات کے عین مطابق ہیں۔
ادھر عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی بیان میں مسلم ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں مبینہ اسرائیلی سرگرمیوں اور امریکی اتحاد کے کردار پر کڑی نظر رکھیں، جو ان کے بقول عدم استحکام کو ہوا دے سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام نے اس واقعے کو محدود نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کے نتیجے میں صرف معمولی نقصان ہوا۔ تاہم دی وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین تھی، اور آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی جس سے نمایاں نقصان ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حملہ رات کے وقت کیا گیا اور اس میں مبینہ طور پر ایسے ڈرون استعمال کیے گئے جنہوں نے سفارت خانے کے حساس حصے کو نشانہ بنایا، جہاں عام اوقات میں بڑی تعداد میں عملہ موجود ہوتا ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ مختلف عالمی و علاقائی بیانیوں کے درمیان تضاد کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جس کے باعث اصل حقائق تک رسائی مزید دشوار ہو گئی ہے۔