حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نمک یا خاموش قاتل؟ نئی تحقیق نے دل کی بیماریوں سے متعلق چونکا دینے والا راز بے نقاب کر دیا Home / لائف سٹائل /

نمک یا خاموش قاتل؟ نئی تحقیق نے دل کی بیماریوں سے متعلق چونکا دینے والا راز بے نقاب کر دیا

ایڈیٹر - 05/04/2026
نمک یا خاموش قاتل؟ نئی تحقیق نے دل کی بیماریوں سے متعلق چونکا دینے والا راز بے نقاب کر دیا

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ خوراک میں نمک (سوڈیم) کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف بلند فشارِ خون کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ دل کی سنگین بیماری، خصوصاً دل کی ناکامی کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ونڈر بلیٹ یونیورسٹی  کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں انکشاف ہوا کہ زیادہ مقدار میں سوڈیم کا استعمال خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جو اس کے اثرات کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق جنرآف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایڈوانس  میں شائع ہوئی، جس میں امریکا کے جنوب مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 25 ہزار سے زائد افراد کے طرزِ زندگی اور غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیقی نتائج کے مطابق شرکاء کی اکثریت تجویز کردہ حد سے تقریباً دوگنا زیادہ نمک استعمال کر رہی تھی، جس کے باعث ان میں دل کی نئی بیماری لاحق ہونے کے امکانات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر اس اضافی استعمال نے دل کی ناکامی کے خطرے کو تقریباً 15 فیصد تک بڑھا دیا۔

مزید برآں تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزانہ نمک کی مقدار میں ہر اضافی 1000 ملی گرام اضافہ دل کی ناکامی کے خدشے کو مزید 8 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، اور یہ اثر دیگر عوامل جیسے موٹاپا، کولیسٹرول یا ہائی بلڈ پریشر سے قطع نظر بھی برقرار رہتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ایک صحت مند فرد کے لیے روزانہ سوڈیم کا استعمال 2300 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم تحقیق میں شامل افراد کی اوسط مقدار اس حد سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 4269 ملی گرام ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک میں نمک کی مقدار کم کرنا دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے، لیکن کم آمدنی والے افراد کے لیے متوازن اور صحت بخش خوراک تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں عوامی سطح پر آگاہی اور غذائی پالیسیوں میں بہتری ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔