تل ابیب: اسرائیل کی فوج کے سابق نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں اور موجودہ صورتحال ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
اپنے بیان میں یائیر گولان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو بخوبی جانتے ہیں کہ جاری جنگ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، اسی لیے انہیں بار بار اپنی کامیابی کا دعویٰ دہرانا پڑ رہا ہے۔ ان کے بقول ایک حقیقی فاتح کو اپنی فتح ثابت کرنے کے لیے مسلسل بیانات دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو اقتدار سے الگ کر دیا جائے، کیونکہ وہ نہ صرف جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ ملک کو مزید پیچیدہ صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اندر سے اس نوعیت کی آوازیں سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر داخلی سطح پر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔