تہران/ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ حملوں کے بعد ایران اور سعودی عرب نے اپنے توانائی کے شعبوں کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک میں تیل و گیس کی پیداوار اور ترسیل کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی نے بتایا کہ ایران آئندہ دو ماہ کے اندر اپنی متاثرہ ریفائننگ اور ترسیلی صلاحیت کو سابقہ سطح کے تقریباً 70 سے 80 فیصد تک بحال کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
انہوں نے ایرانی خبر رساں ادارے ایس این این کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ملک کی متعدد ریفائنریاں، ٹرانسمیشن لائنیں، آئل ڈپو اور ہوابازی کے ایندھن کی فراہمی سے متعلق تنصیبات مختلف حملوں میں متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں صفائی اور مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے اور خراب مشینری کی تبدیلی کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جن میں جزیرہ لاوان کی اہم ریفائنری بھی شامل ہے۔
محمد صادق عظیمی کے مطابق حکام آئندہ دس روز کے اندر اس ریفائنری کے ایک حصے کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے پیداوار میں مرحلہ وار اضافہ ممکن ہوگا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی اپنے توانائی کے نظام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد متاثرہ اہم تنصیبات پر کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی علاقوں سے مغربی حصوں تک تیل کی ترسیل کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مکمل پمپنگ صلاحیت، جو یومیہ تقریباً 70 لاکھ بیرل ہے، بحال کر لی گئی ہے۔
مزید برآں منیفہ آئل فیلڈ میں یومیہ قریباً 3 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی گئی ہے، جبکہ خریص آئل فیلڈ میں مکمل آپریشنز کی بحالی کے لیے کام تیزی سے جاری ہے، جہاں سے مزید 3 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار بڑھنے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ریاض، مشرقی صوبے اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں تیل، گیس اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی عرب نے کئی مقامات پر عارضی طور پر آپریشنز معطل کر دیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور سعودی عرب کی جانب سے توانائی کے شعبے کی بحالی کی یہ تیز رفتار کوششیں نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے بھی اہم ہیں، کیونکہ ان دونوں ممالک کا کردار عالمی تیل کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔