اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں موجود ہیں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے یہاں قیام کیے ہوئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات کی پاکستان میں موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا اب بھی امن مذاکرات کے حوالے سے پُرامید ہے اور پس پردہ سفارتی روابط کو برقرار رکھتے ہوئے کسی ممکنہ پیش رفت کے لیے کوشاں ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی واپسی کو سفارتی حلقوں میں ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکا اپنے مؤقف پر قائم ہے اور کسی بنیادی نکتے پر دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف عالمی سطح پر امریکا کی پوزیشن کو مضبوط ظاہر کرنے کے لیے اختیار کی گئی بلکہ اس کا مقصد داخلی سطح پر بھی کمزوری کے تاثر کو ختم کرنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک جانب جے ڈی وینس کی واپسی سخت سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے، تو دوسری جانب سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی اسلام آباد میں موجودگی نرم سفارت کاری کا پہلو ظاہر کرتی ہے۔ اس دوہری حکمت عملی کے ذریعے امریکا بیک وقت اپنی شرائط برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ تمام پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگرچہ بظاہر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم پس پردہ رابطے جاری ہیں اور خطے میں ممکنہ امن کے لیے سنجیدہ کوششیں بدستور جاری ہیں۔