ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں تعطل کے بعد صورتحال ایک بار پھر حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں واشنگٹن میں عسکری آپشنز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران ایران کے خلاف محدود فضائی کارروائیوں سمیت مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود نوعیت کے فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں سخت نگرانی اور ممکنہ ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔
ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں یہ سوچ بھی موجود ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم مکمل پیمانے پر فضائی مہم شروع کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے، جسے فی الحال کم ترجیح دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت ماضی کی طویل جنگوں کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنانا چاہتی ہے۔
مزید برآں، ایک اور تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ امریکا وقتی طور پر سمندری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے مشترکہ فوجی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی توجہ ایک بار پھر خلیج کی جانب مبذول کر دی ہے، جہاں ہر اگلا قدم نہایت اہم اور دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔