معروف عالم دین اور جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سرپرست اعلیٰ مولانا شیخ محمد ادریس کو اتمانزئی میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار وں نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا ہے ۔فائرنگ کے واقعہ میں مولانا شیخ ادریس کے دو محافظ زخمی ہو گئے ہیں ۔واقعہ کے بعد نامعلوم حملہ اور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے ۔پولیس اور اہل علاقہ نے مولانا شیخ محمد ادریس کی میت اور زخمیوں کو قانونی کاروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے چارسدہ ہسپتال منتقل کیا ہے ۔پولیس کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے ضلع بھر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی سخت کر دی گئی ۔پولیس زرائع کے مطابق مولانا شیخ ادریس اپنے گھر سے درس و تدریس کے لیے اپنے مدرسہ جامعہ نعمانیہ جا رہے تھے کہ نامعلوم ٹارگٹ کلر نے انکی گاڑی کو نشانہ بنایا ۔مولانا شیخ ادریس جامعہ ر جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں بھی سینئر مدرس تھے ۔مولانا شیخ ادریس کے دینی خدمات کو پورے صوبے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔مولانا شیخ ادریس کی شہادت پر مذہبی خلقوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اورفاروق اعظم چوک چارسدہ اوردیگر علاقوں میں مختلف دینی مدارس کے طلباء سراپا احتجاج ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے ۔