شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت منظم ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے، آئی جی خیبر پختونخوا کا دوٹوک اعلان
پشاور/چارسدہ : انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا، ذوالفقار حمید نے ممتاز مذہبی اسکالر شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر قاتلانہ حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے 'منظم ٹارگٹ کلنگ' قرار دے دیا ہے۔ پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، آج مورخہ 05 مئی 2026 کو صبح تقریباً 08:10 بجے تھانہ اتمانزئی کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 دہشت گردوں نے مولانا محمد ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں مولانا ادریس شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ واقعے میں ان کی حفاظت پر مامور دو کانسٹیبلز بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) اور ضلعی پولیس پر مشتمل اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی خطوط اور سیف سٹی کیمروں کے ریکارڈ کی مدد سے دہشت گردوں کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں اور ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ آئی جی ذوالفقار حمید نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر نشانِ عبرت بنایا جائے گا تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔