چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ سابق رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا محمد ادریس کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے مولانا محمد ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ منگل کی صبح اپنے گھر سے مدرسے جا رہے تھے۔
فائرنگ کے اس واقعے میں ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ نگرانی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں، جبکہ اس واردات میں ملوث چار افراد میں سے ایک کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔ سیکیورٹی ادارے دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔