حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایف پی سی سی آئی کا تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ Home / پاکستان /

ایف پی سی سی آئی کا تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

ایڈیٹر - 18/05/2026
ایف پی سی سی آئی کا تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

بجٹ تجاویز 27-2026: ایف پی سی سی آئی کا تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (انفارمیشن بیورو): Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (FPCCI) نے مالی سال 2026-27 کے آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے اپنی جامع تجاویز تیار کر کے وزارتِ خزانہ کو ارسال کر دی ہیں، جن کا مقصد ملک میں کاروباری لاگت کو کم کرنا اور مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزارتِ خزانہ کو بھیجی گئی ان بجٹ تجاویز میں وفاقی چیمبر نے پرزور سفارش کی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کیا جائے، جبکہ اسی طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج کو بھی مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ ایف پی سی سی آئی کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ملازمت پیشہ افراد کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا جو معاشی پہیے کو متحرک کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

علاوہ ازیں، صنعتی و کاروباری شعبے کو فروغ دینے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ملکی برآمدات میں اضافے کو یقینی بنانے کے لیے فیڈریشن نے گڈز ایکسپورٹرز کے لیے 'فائنل ٹیکس رجیم' کو دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر اور مینوفیکچرنگ کی ترقی کے حوالے سے تجاویز میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی شعبے پر عائد 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو سال 2035 تک برقرار رکھا جائے تاکہ اس ابھرتے ہوئے شعبے میں استحکام آ سکے۔ مزید برآں، ایس ایم ای (SME) ٹرن اوور کی حد کو 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے اور مینوفیکچررز کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی اہم ترین تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔

اہم ترین تفصیلات اور بجٹ تجاویز 

  • انکم ٹیکس میں کمی: تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) پر عائد انکم ٹیکس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
  • سرچارج کا خاتمہ: ملازمین کی تنخواہ (Salary) پر عائد 9 فیصد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
  • سپر ٹیکس کا خاتمہ: ملک میں سرمایہ کاری (Investment) کو بڑھانے کے لیے نئے بجٹ میں سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
  • ایکسپورٹرز کیلیے فائنل ٹیکس رجیم: برآمدات میں اضافے کے لیے گڈز ایکسپورٹرز کے لیے فائنل ٹیکس رجیم (Final Tax Regime) کو دوبارہ بحال کرنے کی تجویز ہے۔
  • آئی ٹی شعبے کو ریلیف: آئی ٹی (IT Sector) پر عائد 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو سال 2035 تک برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
  • ایس ایم ای ٹرن اوور حد میں اضافہ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SME) کے لیے ٹرن اوور کی حد 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
  • مینوفیکچررز کیلیے انکم ٹیکس: مقامی مینوفیکچررز کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی اہم ترین تجویز شامل ہے۔