اسلام آباد (ان این آئی) – رواں مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کے معاشی منظرنامے سے ایک اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ملک پر واجب الادا بیرونی قرضوں میں 4 ارب 98 کروڑ ڈالر کا خطیر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران پاکستان نے مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مجموعی طور پر 11 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے بیرونی قرضے اور گرانٹس حاصل کی ہیں، جو ملکی معیشت پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو ظاہر کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (پہلے 10 ماہ) کے مقابلے میں رواں سال بیرونی قرضوں کے حصول میں 82 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، کیونکہ گزشتہ سال اس مدت کے دوران 6 ارب ڈالر (تقریباً 1 ہزار 696 ارب روپے) کا قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اپریل 2026 کے مہینے میں پاکستان کو 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے فنڈز موصول ہوئے، جب کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے ملنے والا 2.5 ارب ڈالر کا قرضہ اس کے علاوہ ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق جولائی سے اپریل کے دوران پروجیکٹ ایڈ کی مد میں 8 ارب 31 کروڑ ڈالر اور نان پروجیکٹ ایڈ کے تحت 2 ارب 75 کروڑ ڈالر کے فنڈز حاصل ہوئے۔ اسی دوران 12 کروڑ امریکی ڈالر کی گرانٹس بھی ملیں۔ مزید برآں، سعودی عرب نے پاکستان کو مؤخر ادائیگیوں پر 1 ارب ڈالر کا تیل فراہم کیا جبکہ 3 ارب ڈالر کے نئے ڈیپازٹس بھی فراہم کیے گئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 19 ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملکی مالیاتی انتظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔