شانگلہ کے ضلع لیلونی سے تعلق رکھنے والا ایک اور نوجوان محنت کش کوئلہ کانوں کی بھینٹ چڑھ گیا، چکوال میں واقع ایک کوئلہ کان کے اندر زہریلی گیس بھر جانے کے باعث شانگلہ کا رہائشی عبدالرحمن زندگی کی بازی ہار گیا،
عبدالرحمن روزگار کی تلاش میں دیگر صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور تھا۔ وہ چکوال کی ایک نجی کوئلہ کان میں بطور مزدور کام کر رہا تھا کہ اچانک کان کے اندر گیس بھر گئی۔
حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث وہ بر وقت باہر نہ نکل سکا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد دیگر مزدوروں نے اپنی جانیں بچاتے ہوئے کان سے نکل کر انتظامیہ کو اطلاع دی۔
شانگلہ کے پسماندہ علاقوں خصوصاً چھانگا، لیلونی اور گردو نواح سے تعلق رکھنے والے محنت کش مزدور آئے روز کوئلہ کانوں میں حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔
مقامی سطح پر کیسے گئے ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق شانگلہ کی تقریباً 65 فیصد آبادی کا روزگار کوئلہ کان کنی اور دیگر خطرناک محنت مزدوری سے وابستہ ہے، مرحوم عبدالرحمن کی موت کے بعد شانگلہ کے عوام ،سماجی کارکنوں اور مزدور تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔