حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی ایم پر پابندی لگانے کے حوالے سے رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع Home / لائف سٹائل /

پی ٹی ایم پر پابندی لگانے کے حوالے سے رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع

ایڈیٹر - 15/01/2026
پی ٹی ایم  پر پابندی لگانے کے حوالے سے رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع

 

پشاور۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم ) پر پابند لگانے کے حوالے سے سر بمہر رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع کر دی گئی جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت 21 جنوری تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگلی پیشی پر اس کیس کو سنا جائے گا۔

گزشتہ روز کا لعدم تنظیم پی ٹی ایم پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈآکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی منظور پشتین وغیرہ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشنز کی سماعت شروع ہوئی،

تو درخواست گزار کی جانب سے عطا اللہ کنڈی ایڈووکیٹ جبکہ وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل عطا اللہ کنڈ کی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا،

کہ وفاقی حکومت نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کر دی پابندی ہے۔

انہوں نے پابندی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے کیونکہ یہ ایک امن پسند تنظیم ہے اور ان کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں مگر اس کے باوجود وفاقی وزرات داخلہ نے اس پر پابندی عائد کر دی اور اس سے وابسطہ افراد کوشیڈول فور میں شامل کیا ہے جو غیر آئینی ہے

گزشتہ پیشی پر اس کیس میں عدالت نے وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی کہ وہ پابندی لگانے کے وجوہات بتائے کہ کیوں لگائی ہے مگر ابھی تک وہ رپورٹ نہیں آئی دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے رپورٹ جمع کی ہے

اور حساس معاملات ہونے کی وجہ سے رپورٹ سر بمہر ہے وہ صرف عدالت کے لئے ہے درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم تو شروع دن سے یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ کیوں پابندی لگائی ہے،

یہ ہمیں یہ بتا نہیں رہے، ہمیں تو پابندی کے وجوہات کا ابھی تک علم نہیں ہے اور نہ رپورٹ ہمیں دی گئی ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے بتایا ہے تحریری طور پر رپورٹ جمع کی ہے۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہا کہ جور پورٹ وفاقی حکومت نے جمع کی ہے ہم اس کو دیکھیں گے، یہ کیس ٹائم زیادہ لے گا، اسلئے آج اس کو نہیں سن سکتے، اس کیس کو اگلے ہفتے سنیں گے اور فیصلہ کریں گے، عدالت نے 21 جنوری تک سماعت ملتوی کر دی