ڈیووس ۔ جدید ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بڑھاپا کوئی قدرتی راز نہیں جو کبھی نہ سمجھا جا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سائنس مستقبل میں حل کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق ، وقت آئے گا جب انسان بڑھاپے کے عمل کوست، روک یا شاید واپس بھی موڑ سکے گا۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026 سے گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ عمر بڑھنے کا عمل کوئی پراسرار چیز نہیں۔
ان کے مطابق، جیسے ہی سائنس دان اس کی بڑھاپے کی اصل وجہ تک پہنچ جائیں گے ، یہ مسئلہ توقع سے کہیں زیادہ واضح اور قابل فہم نظر آئے گا۔
ایلون مسک نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انسان کا جسم ایک خاص نظام کے تحت بوڑھا ہوتا ہے۔
بقول ان کے، میں نے کبھی کسی کو ایک بازو سے بوڑھا اور دوسرے سے جوان نہیں دیکھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں کہیں نہ کہیں ایک اندرونی گھڑی موجود ہے جو کھر ہوں خلیوں کو ایک ساتھ عمر رسیدہ ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔
مسک نے کہا کہ جیسے ہی سائنس دان اس نظام کو سمجھ لیں گے، بڑھاپے کا حل سامنے آ سکتا ہے۔
ان کے خیال میں یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا ہمیں لگتا ہے ، بس اصل وجہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
اس سے پہلے ایلون مسک ڈیجیٹل لافانیت کا تصور پیش کر چکے ہیں۔ اس تصور کے تحت لوگ اپنی زندگی کی کہانیاں، یادیں اور تجربات کمپیوٹر میں محفوظ کر سکیں گے۔