پشاور ۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا پاس رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
دو حہ معاہدے کے تحت یہ کسی دہشت گرد تنظیم کو پناہ نہیں دے سکتے ، یہ بات کا العدم ٹی ٹی پی سربراہ کو میں نے بتائی تھی کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، پاک افغان لڑائی کو طول نہیں دینا چاہیے افغانستان کو بھی یہ بات اب سمجھ آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو جنگ نہیں ، امن کی ضرورت ہے، دو اسلامی ممالک کی جنگ میں جیتنے والا بھی بد قسمت ہوتا ہے۔ پاکستان و افغانستان کے در میا نکشیدگی سے خطہ متاثر ہورہا ہے۔
پاک افغان تجارت کی بندش سے دونوں ممالک نقصان ہو رہا ہے۔ پاک افغان جنگ خطہ پر اثرات کے موضوع پر آئی آرایس کے زیر اہتمام محفل مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مذاکرہ مہمان خصوصی سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق تھے،
اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت انسانیت کو بھی خطرہ ہے پاکستان اور افغانستان کی تجارت بند ہونے کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا ہے۔ اس وقت انسانیت کو بھی خطرہ ہے اور حکومت کو بھی۔ روس کے پاس 7 ہزار اسی طرح اسرائیل اور چین کے پاس بھی ایٹم بم ہے۔
جب دو اسلامی ممالک کے درمیان جنگ ہو تو جیتنے اور ہارنے والا دونوں بد قسمت ہوتے ہیں۔ کوئٹہ میں لوگوں نے بتایا کہ 25 لاکھ لوگ بلوچستان میں متاثر ہوئے اسی طرح خیبر پختو نخوا کو بھی متاثر کیا۔ ایک بار پھر ہم طالبان کی اپوزیشن پیدا کر رہے ہیں