اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیر کیے گئے 179 میگا کرپشن کیسز کے نتائج انتہائی مایوس کن نکلے۔ بیورو کی طویل تگ و دو کے بعد اب تک صرف 2 مقدمات میں سزائیں سنائی جا سکی ہیں، جبکہ درجنوں مقدمات قانونی تبدیلیوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ سنسنی خیز اور تازہ ترین اعداد و شمار نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سید احتشام قادر نے خصوصی طور پر جاری کیے ہیں۔
دستیاب دستاویزات اور مقدمات کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق اس وقت نیب کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر 86 ریفرنسز درج ہیں۔ ان میں سے 41 ریفرنسز نیب قوانین میں ترامیم کے باعث دیگر اداروں کو منتقل یا واپس کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف 21 مقدمات ایسے ہیں جن میں ٹرائل کا عمل جاری ہے، جبکہ 6 مقدمات ملزمان کی بریت پر ختم ہو چکے ہیں۔
مقدمات کی مزید تفصیلات کے مطابق 3 ریفرنسز واپس لیے جا چکے ہیں، ایک کو نمٹا دیا گیا ہے اور ایک تاحال زیرِ تفتیش ہے۔ اس کے علاوہ 4 مقدمات غیر فعال، 2 ختم اور 5 اس وقت عدالتوں میں اپیل کے مرحلے میں ہیں۔ معاشی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب قوانین میں یکے بعد دیگرے ہونے والی تبدیلیوں نے میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے احتساب کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔