اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے 12 متاثرہ اضلاع کے لیے قائم کردہ "ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل" (اے آر ڈی سی) کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں مقیم طالبان اور سرحد پار سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک بااختیار وفد فوری طور پر افغانستان بھیجا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پار حملوں کی روک تھام اور سابقہ قبائلی اضلاع میں پائیدار امن کی بحالی کے امکانات صرف اور صرف بامقصد بات چیت کے ذریعے ہی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز قبائلی رہنما ملک خان مرجان نے ایک حالیہ انٹرویو میں وفاقی حکومت کو ٹھوس تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 15 سے 20 قابلِ اعتماد اور بااثر قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک وفد تشکیل دے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اس وفد کو مکمل سرکاری حیثیت اور واضح اختیارات فراہم کیے جائیں، اور انہیں افغانستان جا کر مذاکرات کرنے کے لیے ایک ہفتے کی باقاعدہ اجازت دی جائے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا ایک پرامن اور دیرپا سیاسی حل نکالا جا سکے۔